سندھ کی دو بڑی نمائندہ جماعتوں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادتوں نے اس بات پر اتفاق کیاتھا کہ سندھ کے اندر پرانے بلدیاتی نظام کی بحالی کیلئے قبل ازیں جو آرڈیننس جاری کیا گیا تھا اب اس کا اطلاق کراچی اور حیدرآباد کے اضلاع پر نہیں ہوگا، ان دونوں اضلاع میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے تحت ضلعی حکومتیں کام کریں گی۔ کراچی کے پانچ اضلاع ختم کرکے دوبارہ ایک سٹی ڈسٹرکٹ بحال کردیا گیا ہے جبکہ حیدرآباد کو چار اضلاع حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الہ یار میں دوبارہ تقسیم کردیا گیا ہے۔ کمشنری نظام اور پرانے بلدیاتی نظام کے حوالے سے ہائی کورٹ میں جو درخواستیں دائر کی گئی تھیں وہ بھی واپس لے لی جائیں گی۔ حکومت سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر شہید بے نظیر آباد کو حیدرآباد ڈویژن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پولیس آرڈر 2000 کا خاتمہ ٹھیک ہوا ہے اور پولیس ایکٹ 1861کی بحالی بھی ایک درست اقدام ہے لہٰذا صوبے میں پرانا پولیس ایکٹ نافذ رہے گا۔ تاہم سندھ میں کچھ حلقوں کی طرف سے ان آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ ان اقدامات سے سندھ میں لسانی تفریق مزید گہری ہو جائے گی اور ان خدشات کا بھی اظہار کیا گیا کہ آگے چل کے یہ اقدام سندھ کی تقسیم کی بنیاد بھی بن سکتا ہے چنانچہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کسی بھی بات کو انا کا مسئلہ بنائے بغیر لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 جو پہلے صرف کراچی اور حیدرآباد ضلعوں تک بحال کیا گیا تھا اب پورے صوبہ سندھ میں بحال کر دیا گیا ہے تاکہ پورے صوبے میں ایک ہی بلدیاتی نظام رائج ہو۔ اس سلسلے میں گورنر سندھ نے ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیئے ہیں۔
ایم کیوایم پیپلزپارٹی کے درمیان سندھ میں سیاسی چپقلش سے پورے ملک پر برے اثرات مرتب ہوئے اور اس سے ملک دشمن عناصر نے خوب فائدہ اٹھایا۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ دونوں سیاسی قوتوں پی پی پی اور ایم کیوایم نے محسو س کر لیا ہے کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور درمیان میں کچھ سیاسی امور کی وجہ سے معاملات خراب ہوئے، صوبے میں سیاسی اور انتظامی معاملات میں توازن کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دونوں فریقین نے مذاکرات کی راہ اختیار کرتے ہوئے صوبے کے معاملات کو حل کرنے کوشش کی ہے۔ دونوں فریقین میں ابھی دیگر معاملات پر مذاکرات کررہے ہیں جن کی تفصیلات بعد میں میڈیا کو بتائی جائیں گی۔
آپ کے خیال میں کیا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 کی پورے صوبے میں بحالی سے سندھ میں جاری سیاسی چپقلش کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا؟
کیا سندھ میں موجود سیاسی عناصر ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہوئے ان تبدیلیوں کو تسلیم کر لینگے؟
کیا سندھ کی وزارت بلدیات صوبے میں شہری اور دیہی علاقوں
میں بحال شدہ بلدیاتی نظام کامیابی کے ساتھ چلا سکے گی اوراختیارات اور مالی وسائل کی فراہمی کا کیا بنے گا ؟
کیا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 کی بحالی کے بعد بلدیاتی انتخابات کا جلد انعقاد ممکن ہے؟