سابقہ انتخابات کا اگر جائزہ لیا جائے تو 1970 کے انتخابات کے علاوہ باقی تمام انتخابات طے شدہ تھے۔ اس دفعہ بھی اگر انتخابات فوج کی زیر نگرانی میں ہوئے تو عمران خان کے اسی طرح جیتنے کے امکانات ہیں جس طرح 1970 کے انتخابات میں بھٹو جیتے تھے۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں اور انتخابات میں دھاندلی کرنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ کوئی معجزہ ہی ملک میں شفاف انتخابات کرا سکتا ہے۔ وگرنہ وہی جیتے گا جس کے سر پر سرخاب کا پر ہو گا۔ ہو سکتا ہے اس دفعہ انتخابات میں دھاندلی لوگ برداشت نہ کر پائیں اور قومی اتحاد کی طرح کی تحریک کے بدلے میں عمران خان کو حکومت ملنے کی بجائے فوج دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لے۔
کیا عمران خان اگلے انتخابات جیت جائیں گے؟ کیا عمران خان میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں تحریک انصاف کو انتخابات میں کامیاب کرا سکیں گے؟ کیا عمران خان میں اتنی سوجھ بوجھ ہے کہ وہ انتخابی مہم اتنی کامیابی سے چلائیں گے کہ لوگ صرف انہی کو ووٹ دیں؟